بت پرست نفرتی کیوں؟
بت پرست نفرتی کیوں؟ بت پرستوں کو صبح و شام نفرت کے جام پِلائے گئے ہیں، ان کی ذہنیت زہرآلودہ ہے، سینوں میں تعصّب کی آگ بھڑک رہی ہے، ایک پیاسا لڑکا' اپنی پیاس بجھانے کے لیے مندر کے احاطے میں داخل ہوا تو شیطان صفت وحشی' بےرحمی کے ساتھ پیٹنے لگا، یہ فقط اس وحشی کی ذہنیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے باضابطہ ایک صدی کی محنت ہے، تخریبی سرگرمیاں ہیں، سنتوں اور سادھؤوں نے، نیتاؤں اور غنڈوں نے ہر جگہ نفرت کا بازار گرم کیا ہے، نفرت کا وہ بازار جہاں انسانیت اور تہذیب کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں، نیکی کے ہر کام میں مذہب آڑے آتا ہے، یہ صرف ان ملت فروشوں کو معاف کرتے ہیں جنہوں نے غلامی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال دیا، سوچیں! کیسی تعلیم ان بزدلوں کو ملی ہوگی جو ایک معصوم پیاسے لڑکے کو پانی پِلانے کے بجائے' پیٹنے لگتے ہیں، سال میں ایک ہزار قومی ایکتا سمّیلن کا انعقاد کرلیں مگر یہ ذہنیت نہیں بدلنے والی، یہ وحشی پن، یہ درندگی، یہ تعصب اور یہ نفرت ان کی عادت بن گئی ہے اور عادت ایک نہ ایک دن فطرت بن ہی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہزاروں فسادات، ہجومی تشدّد، سماجی و معاشی بائیکاٹ کی منصوب...